Technology
چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے جوتے تلاش کرنے کی وائرل ویڈیو
بھارت کے شہر اجین میں ایک شخص نے مہاکلیشور مندر کے باہر جوتوں کے انبار میں اپنے گمشدہ جوتے تلاش کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا انوکھا استعمال کیا۔ اس واقعے کی وائرل ہونے والی ویڈیو کو دو ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اور صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے، لیکن اس کا استعمال اب ایسے انوکھے طریقوں سے کیا جا رہا ہے جن کا شاید کبھی تخیل بھی نہیں کیا گیا تھا۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ایسی ہی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص نے جدید ترین چیٹ جی پی ٹی ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے گمشدہ جوتے تلاش کیے۔ یہ حیرت انگیز واقعہ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے مشہور شہر اجین میں واقع تاریخی مہاکلیشور مندر کے باہر پیش آیا۔ اس مندر میں عقیدت مندوں کی اتنی بڑی تعداد آتی ہے کہ جوتوں اور چپلوں کا ایک سمندر بن جاتا ہے، جہاں سے اپنی چیز تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔
مذکورہ شخص جب مندر کے باہر جوتوں کے کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں ہزاروں جوتوں کے درمیان اس کی جوتی گم ہو گئی تھی۔ روایتی طریقوں سے جوتے تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد اس شخص نے اپنے اسمارٹ فون پر موجود چیٹ جی پی ٹی کا رخ کیا۔ اس نے نہ صرف وہاں موجود ہجوم اور جوتوں کے ڈھیر کی تصویر اے آئی کو دکھائی بلکہ اپنے جوتے کا حلیہ بھی بیان کیا۔ حیرت انگیز طور پر، جدید ٹیکنالوجی نے ماحول کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس شخص کی رہنمائی کی اور اسے بالکل درست سمت بتائی، جس کی مدد سے اس نے چند ہی لمحوں میں ہزاروں جوتوں میں سے اپنی گمشدہ جوتی ڈھونڈ نکالی۔
یہ دلچسپ واقعہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا اور جب اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ انٹرنیٹ کی دنیا میں چھا گیا۔ اس ویڈیو کو اب تک دو ملین سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں اور اس پر ہزاروں دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اس واقعے پر خوب محظوظ ہو رہے ہیں اور مزاقاً کہہ رہے ہیں کہ انسان اب اپنی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کے لیے بھی مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے لگا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے ٹیکنالوجی کا انتہائی مثبت اور تفریح سے بھرپور استعمال قرار دیا ہے جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ یہ مستقبل میں انسان کی زندگی کو مزید آسان بنانے کی ایک جھلک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف بڑے سائنسی یا کاروباری مسائل تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ عام انسان کے روزمرہ کے چھوٹے مسائل حل کرنے میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک مزاحیہ اور ہلکی پھلکی خبر کے طور پر سامنے آئی ہے، لیکن یہ اس بات کی غماز ہے کہ آنے والے وقتوں میں اے آئی کا دائرہ کار ہماری توقعات سے کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گا۔ اس وائرل ویڈیو نے جہاں ایک طرف لوگوں کو ہنسنے کا موقع فراہم کیا، وہیں دوسری طرف ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز صلاحیتوں کا ایک نیا رخ بھی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔