World
ترکیہ سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدہ اور مصر کا ممکنہ کردار
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اشارہ دیا ہے کہ مصر ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مسلم ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصر مستقبل میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان قائم ہونے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور مسلم دنیا کے اہم ممالک کے درمیان عسکری تعاون کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، انم ممالک کے درمیان دفاعی اشتراک سے خطے میں ایک نیا توازن قائم ہو سکتا ہے۔ صدر اردوان نے اپنے حالیہ دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کے بڑے ممالک کو اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے ہی مختلف دفاعی شعبوں میں تعاون جاری ہے، اور اب مصر کی اس میں ممکنہ شمولیت اس اتحاد کو مزید وسعت دے گی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا یہ ممکنہ دفاعی فریم ورک مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطوں میں امن، استحکام اور مشترکہ سکیورٹی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف عسکری سازوسامان کی تیاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مدد ملے گی بلکہ باہمی عسکری مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے دہشت گردی جیسے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے میں بھی بڑی حد تک آسانی ہوگی۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سفارتی رابطے کیے جائیں گے تاکہ اس اسٹریٹجک وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔