LIVE
Loading Breaking News...

این ویڈیا کی ایس بی انرجی میں 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی اطلاعات

News Image
معروف ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا اوپن اے آئی کے ساتھ ڈیٹا سینٹر کے نئے معاہدے کے تحت ایس بی انرجی میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ مائیکرو پروسیسر اور اے آئی چپ ساز کمپنی این ویڈیا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی برتری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اور بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق این ویڈیا اوپن اے آئی کے ساتھ ہونے والے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر معاہدے کے سلسلے میں ایس بی انرجی میں تین ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہے۔ اس ممکنہ سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد مستقبل کی اے آئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار بھاری بھرکم کمپیوٹنگ پاور اور توانائی کے ذرائع کو یقینی بنانا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور عمل درآمد کے لیے انتہائی جدید ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ وافر مقدار میں بجلی اور ہائی ٹیک ہارڈویئر استعمال کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری دونوں کمپنیوں کے درمیان تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جائے گی اور اس سے عالمی سطح پر اے آئی انفراسٹرکچر کی ترقی کو مہینوں اور سالوں کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایس بی انرجی، جو کہ توانائی کے پائیدار اور جدید حل فراہم کرنے میں نمایاں مقام رکھتی ہے، اس معاہدے کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز کو درکار بجلی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کے پیش نظر ٹیکنالوجی کمپنیاں اب براہ راست انرجی پروڈیوسرز کے ساتھ شراکت داریاں کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں بجلی کی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے اور ڈیٹا سینٹرز بلا تعطل کام جاری رکھ سکیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف این ویڈیا کے کاروباری دائرہ کار کو وسیع کرے گا بلکہ پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ اوپن اے آئی اور این ویڈیا کے مابین اس طرح کے اسٹریٹجک تعلقات اس بات کا اشارہ ہیں کہ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ مزید تیز ہو جائے گی اور اس میں سبقت لے جانے کے لیے کمپنیاں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد انڈسٹری کے ماہرین کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس ممکنہ ڈیل کے حوالے سے مزید تفصیلی اعلانات بھی کیے جائیں گے۔