Pakistan
محسن نقوی کا سی ڈی اے چیئرمین اور آئی جی اسلام آباد کے دفاع میں بیان
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یوم آزادی کی پریڈ کے دوران گھوڑا گاڑی کے استعمال پر تنقید کی زد میں آنے والے سی ڈی اے چیئرمین اور آئی جی اسلام آباد کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل افسران کی اپنی مرضی کا نہیں بلکہ تاخیر کے باعث پبلک کی سہولت کے لیے ان کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز اسلام آباد میں یوم آزادی کی ایک تقریب کے دوران گھوڑا گاڑی پر سوار ہونے والے دو اعلیٰ سرکاری حکام کی حمایت میں سامنے آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ سہیل اشرف اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس ویڈیو میں دونوں افسران کو ایک گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر پریڈ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں موجود حاضرین کی خاموشی اور عدم توجہی نے اس واقعے کو سوشل میڈیا پر ایک بحث کا موضوع بنا دیا اور کئی صارفین نے اس عمل کو نوآبادیاتی دور کی یادگار قرار دیا۔
تنقید کا سلسلہ بڑھنے کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر تفصیلی وضاحت جاری کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس میں متعلقہ افسران کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ وزیر داخلہ کے مطابق، صدر اور وزیر اعظم کی ملاقات میں تاخیر کی وجہ سے وہ اور مہمانِ خصوصی وقت پر تقریب میں نہیں پہنچ سکے تھے۔ عوام شام پانچ بجے سے منتظر تھے اور جب یہ واضح ہوا کہ تاخیر ہو جائے گی تو انہوں نے خود افسران کو ہدایت کی تھی کہ وہ پروگرام کا آغاز کر دیں تاکہ عوام کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔ محسن نقوی نے زور دے کر کہا کہ گھوڑا گاڑی اصل میں مہمانِ خصوصی کے لیے تیار کی گئی تھی لیکن ناگزیر حالات کی وجہ سے افسران کو مجبورا اس کا استعمال کرنا پڑا۔
محسن نقوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دونوں افسران نے ان کی غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے پہلے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا، لیکن عوامی سہولت کے لیے انہیں خاص طور پر حکم دیا گیا تھا۔ دوسری جانب، وضاحت سامنے آنے کے باوجود سوشل میڈیا صارفین اور معروف شخصیات کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری رہا۔ سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اور ڈیجیٹل رائٹس کے کارکن اسامہ خلوجی سمیت کئی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اس واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرزِ عمل سے بیوروکریسی کا عوام سے لاتعلقی کا رویہ ظاہر ہوتا ہے، جبکہ بعض صحافیوں نے اسے ملک کی موجودہ معاشی مشکلات کے تناسب سے غیر مناسب قرار دیا۔ اس واقعے نے ملک میں بیوروکریٹک کلچر اور استعماری روایات کے حوالے سے ایک بار پھر گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔