LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان کے خاران میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک

News Image
بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خاران میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ضلع کے علاقے لجی میں آپریش رد الفتنہ 3 کے تحت عمل میں لائی گئی، جس میں کئی دیگر دہشت گرد بھی زخمی ہوئے۔ سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دو گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سے قبل ہفتے کے روز بھی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے شور پرد میں ایک اور کارروائی کے دوران 10 دہشت گردوں کو ہلاک اور کئی کو زخمی کر دیا تھا۔ اسی طرح، منہ کے روز فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ ضلع سوراب میں کم از کم 18 دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ قبل از وقت دھماکے میں مارے گئے تھے۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں پنجگور کے علاقوں سرکینی اور چیدگی میں بھی ایک اہم کمانڈر سمیت پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ تمام کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب بلوچستان کو سیکیورٹی کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی جانب سے 31 جولائی کو جاری کردہ ماہانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ملک بھر میں سیکیورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ بلوچستان میں متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں مجموعی اموات کی شرح میں 241 فیصد اضافہ ہوا، جو جون میں 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 تک پہنچ گئی۔ اس دوران بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں جون کے 6 سے بڑھ کر جولائی میں 62 ہو گئیں، جو کہ 933 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسی مدت میں دہشت گردوں کی ہلاکتیں 75 سے بڑھ کر 238 ہو گئیں جبکہ عام شہریوں کی اموات میں 93 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تعداد 28 سے بڑھ کر 54 ہو گئی۔ اس کے علاوہ صوبے میں امن کمیٹیوں کے 18 اراکین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ ملک اور بالخصوص بلوچستان سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔