Technology
مصنوعی ذہانت اور چھوٹے کاروبار: نئی تحقیق میں اہم انکشافات
ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چوتھائی کاروباری رہنما اپنے کاروبار میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کے نتائج کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے باوجود چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مالیاتی امور اور تعمیل جیسے پیچیدہ کاموں کے لیے بھی اے آئی پر انحصار کر رہے ہیں۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے ہر چھوٹے بڑے کاروبار میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں، لیکن حالیہ تحقیق نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق بعض تشویشناک حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک تازہ مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی کاروباری رہنما یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ دراصل ان کے ادارے میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کس طرح کام کرتی ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں۔ اس کے باوجود کہ رہنما اس ٹیکنالوجی کی تکنیکی باریکیوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) تیزی سے اسے اپنے روزمرہ کے امور میں شامل کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنیاں اب انتہائی حساس شعبوں جیسے کہ مالیاتی آڈٹ، ٹیکس کمپلائنس اور مالیاتی منصوبہ بندی جیسے پیچیدہ کاموں کے لیے بھی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر بھروسہ کرنے لگی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی کارکردگی کو بہتر بنانے اور وقت بچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، لیکن اس کے اندرونی میکانزم کو نہ سمجھنا کاروباری اداروں کے لیے مستقبل میں بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر اسٹیک ہولڈرز یا ریگولیٹری ادارے یہ پوچھ لیں کہ اے آئی نے کوئی خاص فیصلہ کیوں یا کیسے کیا، تو بہت سے کاروباری رہنما اس کا تسلی بخش جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ اس صورتحال نے انڈسٹری کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا کاروباروں کو اندھا دھند نئی ٹیکنالوجی اپنانے کے بجائے پہلے اپنی ٹیموں کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ چھوٹے کاروباروں کو اے آئی کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے اور خاص طور پر مالیاتی امور میں انسانی نگرانی کو ہر صورت یقینی بنانا چاہیے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان یا قانونی چارہ جوئی سے بچا جا سکے۔