World
برطانوی وزارت دفاع کا سخت فیصلہ، سپلائی چین کے قوانین میں تبدیلی
برطانوی وزارت دفاع نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین کے قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔ یہ قدم بحری ڈرونز میں غیر ملکی ٹیکنالوجی اور چینی رابطے سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
برطانوی وزارت دفاع نے قومی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات اور غیر ملکی ٹیکنالوجی کی سقم کو دور کرنے کے لیے سپلائی چین کے ضابطوں کو نمایاں طور پر سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم اقدام حالیہ دنوں میں برطانوی بحری ڈرونز کے اندر مبینہ طور پر چینی پرزہ جات یا سگنلز پائے جانے کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ دفاعی حلقوں میں اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد حکام نے دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے پورے نیٹ ورک کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دیا۔
حالیہ واقعے نے دفاعی تنصیبات اور حساس نوعیت کے سسٹمز میں استعمال ہونے والے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کی سکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید دفاعی آلات میں غیر ملکی یا بالخصوص حریف ممالک کی ٹیکنالوجی کی موجودگی جاسوسی اور ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پس منظر میں برطانوی حکومت نے دفاعی سپلائی چین کے قوانین کو فول پروف بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کی جا سکے۔
نئے قوانین کے تحت اب دفاعی سازوسامان فراہم کرنے والے تمام ٹھیکیداروں اور سپلائرز کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی اور ان کے پرزہ جات کے ماخذ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور ہر اس ٹیکنالوجی کو سپلائی چین سے باہر رکھا جائے گا جو قومی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
دفاعی ماہرین نے حکومت کے اس اقدام کو بروقت اور ضروری قرار دیا ہے کیونکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے شعبے میں سکیورٹی خدگزات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان سخت قواعد کے نفاذ سے برطانوی دفاعی نظام مزید محفوظ ہو گا اور غیر ملکی مداخلت کے تمام ممکنہ راستے مسدود کیے جا سکیں گے۔