World
آبنائے ہرمز کی سلامتی اور امریکی محاصرہ: ایران کا موقف
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبئے ہرمز میں مکمل سلامتی کا انحصار امریکی محاصرے اور خطے میں دھمکیوں کے مکمل خاتمے پر ہے۔ تہران نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر اومان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اہم ترین اسٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی اور استحکام کا دارومدار امریکی محاصرے اور خطے میں جاری دھمکیوں کے فوری خاتمے پر ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اس آبی راستے کے پرامن اور محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے خطے سے باہر کی طاقتوں کو اپنی جارحانہ پالیسیوں اور رکاوٹوں کو ترک کرنا ہوگا۔ ایران نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اس کے کنٹرول اور نگرانی میں ہے، جہاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق شپنگ اور تجارتی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایرانی حکام کی جانب سے اومان کے ساتھ اسٹریٹجک مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ شپنگ روٹس کے حوالے سے مشترکہ بیانات اور ممکنہ معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ تہران کا اصرار ہے کہ خطے کے ممالک خود اپنے سمندری امور اور تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی بیرونی فوجی موجودگی سے سیکیورٹی کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ ایرانی معیشت اور سمندری تجارت پر عائد پابندیوں کو ختم کریں تاکہ اس خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری اس سفارتی اور عسکری کشمکش کے اثرات پوری دنیا کی تیل کی سپلائی اور توانائی کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر فوری سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیانات میں امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے خطے میں تناؤ بڑھانے سے گریز کرے، کیونکہ اسی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایک محفوظ تجارتی گزرگاہ بنایا جا سکتا ہے۔