World
آبِ ہرمز کی انتظامیہ: ایران اور عمان کا تجاویز کا تبادلہ
ایران اور عمان نے آبِ ہرمز کے امور کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کے لیے باضابطہ طور پر تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ عمانی تجویز آبِ ملاکا کے ماڈل پر مبنی ہے جس کے تحت جہاز رانی سے متعلق رضاکارانہ فیس کا نظام زیرِ غور ہے۔
تہران اور مسقط کے درمیان خلیجی خطے کی اہم آبی گزرگاہ آبِ ہرمز کی انتظامیہ کو بہتر بنانے اور سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے آبِ ہرمز کے امور کو منظم کرنے کی خاطر باضابطہ طور پر تجاویز کا تبادلہ کیا ہے تاکہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ پر جہاز رانی کے معاملات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ بات چیت خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل اور سمندری امن کو برقرار رکھنے کی غرض سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس حوالے سے عمانی فریق کی جانب سے ایک منفرد اور قابلِ عمل تجویز پیش کی گئی ہے جو آبِ ملاکا کے معروف ماڈل سے متاثر ہے۔ آبِ ملاکا کے اس نظام کے تحت اس آبنائے کو استعمال کرنے والے تجارتی بحری جہاز رضاکارانہ بنیادوں پر فیس یا عطیات فراہم کرتے ہیں، جسے بحری گزرگاہ کی دیکھ بھال، نیوی گیشن کی سہولیات اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عمان کی تجویز ہے کہ اسی نوعیت کا ایک لچکدار اور رضاکارانہ ماڈل آبِ ہرمز کے لیے بھی اپنایا جا سکتا ہے تاکہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی راستے کے اخراجات اور انتظامی امور میں تعاون کو فروغ مل سکے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام بھی اس تجویز کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ ایران اس خطے میں سمندری سلامتی اور علاقائی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے لیے آبِ ہرمز دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل اور دیگر اشیائے خوردونوش لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ تجاویز کے اس تبادلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے ماہرین اس ماڈل کے تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر مزید تبادلہ خیال کریں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین اس رضاکارانہ فیس کے ماڈل پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف آبِ ہرمز کی انتظامی استعداد کار میں اضافہ ہوگا بلکہ خلیجی خطے میں تعاون کی ایک نئی مثال بھی قائم ہوگی۔