LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز کشیدگی: ایران کا سخت موقف اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
آبِ ہرمز کے راستے پر ایران کی جانب سے سخت موقف اپنانے کے بعد امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے معاوضے کے مطالبات اور مذاکرات میں تعطل کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان آبِ ہرمز کے حساس بحری راستے پر کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے مزید اقتصادی دباؤ کی دھمکیوں کے بعد آبِ ہرمز میں جہاز رانی کی نقل و حرکت مزید سست ہو گئی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ سرمایہ کار خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا تجارتی تصادم کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔ دوسری طرف، ایران اور امریکہ دونوں نے ایک دوسرے سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے معطل سفارتی مذاکرات کی بحالی کی تمام امیدیں فی الحال دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ علاقائی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو مشرق وسطیٰ کی یہ نئی کشیدگی نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت بالخصوص توانائی کے شعبے پر بھی اس کے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین اقتصادیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آبِ ہرمز میں ٹریفک کی روانی اسی طرح متاثر رہی تو دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے، جس سے عام صارفین کو براہ راست مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے بارہا اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ کسی بھی بڑے بحران کو روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ فی الحال دونوں ممالک اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح اڑے ہوئے ہیں۔