LIVE
Loading Breaking News...

ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ اور قومی مکالمہ

News Image
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے آبادی میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے لیے قومی سطح پر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے پر پیش رفت نہ ہوئی تو وہ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر سکتی ہے۔
کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کے لیے فوری طور پر قومی سطح پر مکالمہ شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں آبادی میں ہونے والا متواتر اور تیز رفتار اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ انتظامی امور کو بہتر بنانے اور عوام کو نچلی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ کروڑوں شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے اور ملک کے کئی حصوں میں ترقیاتی فوائد عوام تک نہیں پہنچ पा رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس سنگین قومی مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ایک متفقہ فریم ورک تیار کرنا چاہیے تاکہ نئے صوبوں کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ پریس کانفرنس کے دوران رہنما ایم کیو ایم نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ اگر صوبوں کے قیام کا معاملہ اسی طرح التواء کا شکار رہا اور اس پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو ان کی جماعت اس آئینی اور قانونی حق کے حصول کے لیے عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی رجوع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت عوام کے حقوق کے تحفظ اور بہتر انتظامی تقسیم کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔