Technology
کرناٹک اے آئی یونیورسٹی اور روزگار مشن - ڈی کے شیوکمار کا اعلان
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے ریاست میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ، تکنیکی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک جدید اے آئی یونیورسٹی بنانے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔
کرناٹک میں تکنیکی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپنے پہلے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ریاست کے نوجوانوں کے لیے ایک نئے اور جامع جابز مشن کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد ریاست کے مختلف اضلاع اور شعبوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع اور پائیدار مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے اور معاشی ترقی کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
اس پرجوش منصوبے کا ایک اور اہم حصہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ایک نئی یونیورسٹی کا قیام ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں تکنیکی مہارتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، اور یہ اے آئی یونیورسٹی ریاست کے طلباء اور نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق تیار کرے گی۔ اس یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف کرناٹک میں تعلیمی معیار بلند ہوگا بلکہ یہ عالمی سطح پر ایک نمایاں تکنیکی مرکز کے طور پر بھی ابھرے گا جہاں جدید تحقیق اور تربیت کے اعلیٰ ترین مواقع میسر ہوں گے۔
حکام کے مطابق، یہ تمام اقدامات 'بیونڈ بنگلورو' کے وژن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دارالحکومت سے باہر دیگر اضلاع اور شہروں تک ٹیکنالوجی اور صنعتوں کا دائرہ کار پھیلانا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ریاست کے پسماندہ یا کم ترقی یافتہ علاقوں میں بھی نئی صنعتیں اور آئی ٹی حبس قائم کیے جائیں گے تاکہ ترقی کے ثمرات ہر خاص و عام تک پہنچ سکیں۔ ریاستی حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تمام متعلقہ محکمے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیزی سے کام کریں گے۔
ماہرینِ معاشیات اور تکنیکی حلقوں کی جانب سے حکومت کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری بھی کرناٹک کی طرف راغب ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کے نفاذ کے لیے مزید پالیسیوں اور فنڈز کی تخصیص متوقع ہے، جو کہ کرناٹک کو مستقبل کی ٹیکنالوجی اور معیشت میں ایک مضبوط ترین ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔