Business
اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال: ایس اینڈ پی 500 اور ڈاؤ جونز میں مندی
اگست 2026 کے اختتام پر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ریکارڈ بلند ترین سطح سے پیچھے ہٹ گیا۔ مایوس کن خوردہ فروخت اور سست روی کے باعث ڈاؤ جونز میں بھی کمی دیکھی گئی۔
امریکہ میں ہفتے کے اختتام پر اسٹاک مارکیٹ میں ہلکی سی مندی دیکھنے میں آئی ہے جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس اپنی ریکارڈ بلند ترین سطح سے قدرے نیچے آ گیا۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز مارکیٹ میں ہونے والی اس گراوٹ کے باوجود مجموعی طور پر اس انڈیکس نے مسلسل تیسرے ہفتے بھی مثبت زون میں رہنے کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معمولی پسپائی مارکیٹ کے قدرتی ردعمل کا حصہ ہے جو طویل عرصے سے مسلسل اوپر جانے کے بعد کچھ وقفہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب ڈاؤ جونز انڈیکس میں نسبتاً زیادہ دباؤ دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ مایوس کن خوردہ فروخت کے اعداد و شمار اور صارفین کے اخراجات میں سست روی بتائی جا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صارفین کی قوت خرید میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ خوردہ شعبے کے یہ اعداد و شمار آنے والے دنوں میں معاشی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور کارپوریٹ سیکٹر کی کارکردگی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے درمیان مارکیٹ کے شرکاء کا زیادہ تر دھیان افراط زر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ افراط زر میں متوقع ٹھنڈک کے اشاروں نے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو اس بات کی شرط لگانے پر آمادہ کر دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو آنے والے وقت میں شرح سود میں وقفہ یا نرمی کا اعلان کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والی معمولی تنزلی کے باوجود سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے کافی حد تک پرامید دکھائی دے رہے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ کے رجحانات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔