LIVE
Loading Breaking News...

کیوبیک میں معذوری کے حقوق اور پارکنگ کا تنازعہ

News Image
کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں ایک معذور خاتون کو معمولی پارکنگ ٹکٹ کے معاملے پر قانونی اور سماجی جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے نے صوبے میں معذور افراد کے لیے پبلک انفراسٹرکچر اور پارکنگ کی سہولیات کے مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔
کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے شہر روئن نورنڈا میں چارلی روسو نامی خاتون کو ملنے والا چالیس ڈالر کا ایک معمولی سا پارکنگ ٹکٹ اب پورے صوبے میں معذور افراد کے حقوق اور رسائی کی ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ سارا معاملہ جون کے مہینے میں اس وقت شروع ہوا جب چارلی روسو اپنے آبائی شہر میں ایک فیسٹیول میں شرکت کے لیے گئیں تھیں۔ وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ شہر میں اب بھی پرانے طرز کی پارکنگ میٹر مشینیں نصب ہیں جن میں فیس ادا کرنے کے لیے سکے ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چارلی روسو کے لیے یہ صورتحال انتہائی مشکل تھی کیونکہ وہ نہ صرف فزیکل طور پر سکے آسانی سے پکڑنے سے قاصر ہیں بلکہ ان میٹرز کی اونچائی تک ان کی رسائی بھی ممکن نہیں تھی۔ چارلی روسو کی جسمانی معذوری کے باعث ان کے لیے ان پرانے پارکنگ میٹرز کا استعمال ناممکن تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی گاڑی کے لیے درست طریقے سے پارکنگ فیس ادا نہیں کر سکیں۔ اس کے باوجود شہر کے انتظامی حکام نے انہیں پارکنگ ٹکٹ جاری کر دیا جو کہ چالیس ڈالر کا تھا۔ اس ناانصافی کے خلاف چارلی نے خاموش رہنے کے بجائے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایک ٹکٹ کا نہیں بلکہ ہزاروں ایسے افراد کا ہے جو روزمرہ کی زندگی میں اس قسم کے غیر لچکدار اور فرسودہ نظام کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر سول سوسائٹی اور معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی حرکت میں آ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پبلک انفراسٹرکچر کو تمام شہریوں بالخصوص معذور افراد کے لیے یکساں طور پر قابل رسائی بنانا حکومت اور مقامی انتظامیہ کی بنیادی ذمے داری ہے۔ پرانے سکے والے پارکنگ میٹرز کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ شہروں کی منصوبہ بندی میں اب بھی جامعیت اور معذور دوست پالیسیوں کی شدید کمی ہے۔ چارلی روسو کا یہ قانونی اور سماجی مؤقف اب ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے تحت کیوبیک بھر میں عوامی مقامات، پارکنگ کی سہولیات اور بلدیاتی قوانین کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی شہری کو معذوری کی وجہ سے اس قسم کی تذلیل اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔