AI
اے آئی گریف بوٹس اور مصنوعی ذہانت سے مردوں سے رابطہ
مصنوعی ذہانت اور بڑے زبان کے ماڈلز (ایل ایل ایمز) کی مدد سے اب ایسے 'گریف بوٹس' تیار کیے جا رہے ہیں جو مرنے والے پیاروں کی ڈیجیٹل یادوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہ رجحان سائنس فكشن کے مشہور شو 'بلیک مرر' جیسا محسوس ہوتا ہے لیکن یہ اب ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
آج کے دور میں ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ جس پر بعض اوقات یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک حیرت انگیز اور کچھ حد تک خوفناک رجحان مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں سامنے آ رہا ہے، جہاں جেনریٹو اے آئی اور بڑے زبان کے ماڈلز (Large Language Models) کو مردہ افراد سے بات چیت کرنے اور ان کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ مشہور زمانہ ٹی وی شو 'بلیک مرر' کے کسی ایپیسوڈ میں دکھایا جاتا ہے۔ اب یہ محض سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
جب کوئی انسان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ پیچھے اپنے لاتعداد ڈیجیٹل نقوش یا فٹ پرنٹس چھوڑ جاتا ہے۔ اس میں سوشل میڈیا پوسٹس، چیٹ میسجز، تصاویر، وائس نوٹس اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر کی جانے والی گفتگو شامل ہوتی ہے۔ اے آئی کے ماہرین اور ڈیجیٹل کمپنیاں اب ان تمام ڈیجیٹل ڈیٹا کو اکٹھا کر کے ایسے الگورتھم تیار کر رہی ہیں جو مرنے والے شخص کے بولنے کے انداز، اس کے خیالات اور اس کی شخصیت کی نقل کر سکتے ہیں۔ ان بوٹس کو 'گریف بوٹس' (Grief Bots) کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ غمزدہ خاندانوں کو اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کے ساتھ دوبارہ بات چیت کرنے کا ایک مصنوعی احساس فراہم کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ان لوگوں کے لیے ایک جذباتی سہارا بن سکتی ہے جو اپنے کسی قریبی کی اچانک موت کا شکار ہو چکے ہیں، لیکن ماہرینِ اخلاقیات اور سائنس دان اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل طور پر کسی انسان کو زندہ رکھنا اور اس کے ساتھ گفتگو کا ڈھونگ رچانا نفسیاتی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے غم کے قدرتی عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور انسان حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ، پرائیویسی اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے سنگین خدشات بھی اس ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
بہر حال، یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب انسانی جذبات اور زندگی کے انوکھے پہلوؤں میں کتنی گہرائی تک سرائیت کر چکی ہے۔ جیسے جیسے جেনریٹو اے آئی مزید بہتر ہوگی، ویسے ہی اس طرح کے ڈیجیٹل چیٹ بوٹس اور ورچوئل مموری سسٹمز میں مزید نکھار آئے گا۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ اور اہم ہوگا کہ معاشرہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کو اپناتا ہے یا اس پر پابندیوں کے لیے کوئی قانونی فریم ورک تیار کرتا ہے۔