World
قلعے کی جھیل سے دو سو سال پرانی تلوار دریافت
برطانیہ کے ایک تاریخی قلعے کے قریب جھیل کا پانی کم ہونے پر اس میں سے ایک قدیم تلوار باہر نکل آئی۔ اس تاریخی تلوار کی عمر دو سو سال کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالی دنوں میں موسمی تبدیلیوں اور خشک سالی کے باعث دنیا بھر میں پانی کے ذخائر اور جھیلوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں ایک حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پانی کی سطح میں نمایاں کمی کے نتیجے میں ایک تاریخی قلعے کے قریب واقع جھیل کے اندر سے دو سو سال پرانی تلوار برآمد ہوئی ہے۔ یہ تلوار پانی کے نیچے چھپی ہوئی تھی لیکن سطح گرنے کے بعد اس کا نوکیلا حصہ باہر دکھائی دینے لگا۔ مقامی افراد اور سیاحوں نے جب اس انوکھی چیز کو دیکھا تو فوراً متعلقہ حکام اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو اس کی اطلاع دی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر اس نایاب ورثے کو محفوظ کیا۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی معائنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تلوار کم از کم دو صدی پرانی ہو سکتی ہے اور اس کا تعلق اس تاریخی قلعے کے دفاعی دور سے ہے۔ اس نوعیت کی دریافتیں نہ صرف تاریخی مقامات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ماضی کے کئی رازوں سے پردہ بھی اٹھاتی ہیں۔ ماہرین اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تلوار جھیل کے اس مخصوص حصے تک کیسے پہنچی اور آیا یہ کسی جنگی معرکے کا حصہ تھی یا اسے محض پانی میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد اس تاریخی مقام پر سیاحت میں بھی اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور لوگ اس قدیم تلوار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے آ رہے ہیں۔ متعلقہ محکمے کا کہنا ہے کہ اس تلوار کو مکمل سائنسی تجزیے کے بعد کسی مقامی عجائب گھر کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس تاریخی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔