World
آسٹریلیا میں گن بائے بیک اسکیم کا نفاذ، سڈنی فائرنگ کا شاسانہ
آسٹریلیا حکومت نے سڈنی کے علاقے بونڈی میں ہونے والے ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعے کے قریباً ایک سال بعد نومبر سے گن بائے بیک اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور عوامی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے ملک بھر میں اسلحے کے قوانین کو مزید سخت کرنے اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے گن بائے بیک اسکیم کا آغاز نومبر سے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ سڈنی کے معروف علاقے بونڈی میں پیش آنے والے دلخراش فائرنگ کے واقعے کے قریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جس میں پندرہ بے گناہ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس المناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور سویلین سطح پر اسلحے کی دستیابی کے حوالے سے شدید بحث شروع ہو گئی تھی۔ حکام کے مطابق اس اسکیم کے تحت شہریوں سے غیر قانونی اور خطرناک ہتھیار واپس خریدے جائیں گے تاکہ معاشرے میں تشدد کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے پاس موجود غیر ضروری یا خطرناک ہتھیار حکومت کے حوالے کر دے گی، جس سے مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے نفاذ کے لیے تمام متعلقہ اداروں نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور نومبر کے پہلے ہفتے سے اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا اور گن بائے بیک اسکیم اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگی۔ اس فیصلے کا سول سوسائٹی اور مختلف طبقات کی طرف سے خیرمقدم کیا جا رہا ہے، تاہم کچھ حلقوں کی جانب سے اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر مزید سخت نگرانی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔