LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں خشک سالی: سیٹلائٹ تصاویر میں دریا خشک ہونے کا انکشاف

News Image
ی یورپ میں شدید خشک سالی کے باعث ڈینیوب اور رائن سمیت اہم دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ نئی سیٹلائٹ تصاویر سے براعظم کے نصف حصے پر خشک سالی کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
یورپ میں شدید اور طویل خشک سالی نے براعظم کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کے اہم اور بڑے دریا تیزی سے سکڑنے لگے ہیں۔ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ براعظم یورپ کا تقریباً نصف حصہ اس وقت خشک سالی کا شکار ہے۔ اس تشویشناک صورتحال نے ماہرین ماحولیات اور متعلقہ حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف آبی حیات بلکہ معیشت اور توانائی کے شعبے کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ڈینیوب اور رائن جیسے تاریخی اور بڑے دریا اس وقت اپنے نچلے ترین سطح پر بہہ رہے ہیں۔ یہ دریا تجارتی نقل و حمل، آبپاشی اور پن بجلی کی پیداوار کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ پانی کی سطح میں نمایاں کمی کی وجہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں شدید رکاوٹیں آ رہی ہیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور تجارتی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی اراضی کو بھی بروقت پانی فراہم کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں خوراک کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے نے یورپ میں بارشوں کا تناسب یکسر بدل دیا ہے۔ طویل گرم لہریں اور موسم گرما کی شدت نے زمین کی نمی کو تیزی سے چوس لیا ہے، جس کے باعث دریاؤں میں پانی کی آمد کم اور اخراج زیادہ ہو رہا ہے۔ اگر فوری طور پر آبی وسائل کے موثر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور براعظم کو گہرے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔