World
ڈیلیوری میں تاخیر پر ڈیلیوری بوائے پر تشدد، ویڈیو وائرل
ڈیلیوری میں صرف پانچ منٹ کی معمولی تاخیر ہونے پر ایک گاہک نے غصے میں آکر ڈیلیوری بوائے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک انتہائی دل دہلا دینے والی اور افسوسناک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈیلیوری بوائے کو محض پانچ منٹ کی تاخیر ہو جانے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت کا رجحان کس حد تک بڑھ چکا ہے اور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے غصے پر قابو رکھنے سے قاصر ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا صارفین میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر طرف اس ظالمانہ رویے کی مذمت کی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈیلیوری بوائے مقررہ وقت پر آرڈر پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا تاہم راستے میں کسی مجبوری یا ٹریفک کی وجہ سے اسے پانچ منٹ کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ منزل پر پہنچا تو انتظار کرنے والا گاہک طیش میں آ گیا اور اس نے بغیر کوئی بات سنے ڈیلیوری بوائے پر ہاتھ اٹھا دیا۔ وائرل ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح موصوف نے غصے میں آ کر غریب ملازم کو تھپڑ مارے اور لاتیں برسائیں۔ ڈیلیوری بوائے اس دوران مسلسل معافیاں مانگتا رہا اور خود کو بچانے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کے باوجود حملہ آور کا دل نہیں پسیجا۔
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات معاشرتی بگاڑ کی علامت ہیں اور اگر ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہ کی گئی تو یہ دوسروں کے لیے خطرناک مثال بن جائے گی۔ شہریوں نے ڈیلیوری بوائے کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اور حملہ آور کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
دوسری جانب، ڈیلیوری سروس فراہم کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے فیلڈ ورکرز کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔ اکثر ڈیلیوری بوائز انتہائی کم اجرت پر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر اس قسم کے ہتک آمیز اور جارحانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ ہمیں بحیثیتِ قوم اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی طاقتور شخص کسی کمزور یا محنت کش پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو بارچلے۔