Politics
میگھالیا آسام سرحدی تنازع: کونراڈ سنگما کا اہم بیان
میگھالیا کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے تصدیق کی ہے کہ مارچ 2022 کے مفاہمت نامے کے تحت آسام کے ساتھ 12 میں سے 6 متنازع سرحدی علاقوں کو کامیابی سے حل کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام سے سرحدی برادریوں میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی آئی ہے اور امن بحال ہوا ہے۔
میگھالیا کے وزیر اعلیٰ کونراڈ کے سنگما نے ہفتے کے روز ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ریاست کے دونوں پڑوسی صوبوں آسام اور میگھالیا کے مابین سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی سمت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ 2022 میں طے پانے والے تاریخی مفاہمت نامے (ایم او یو) کے نتیجے میں دونوں ریاستوں کے درمیان شناخت شدہ بارہ (12) متنازعہ سرحدی علاقوں میں سے آدھے یعنی چھ علاقوں کے معاملات کو کامیابی کے ساتھ سلجھا لیا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف طویل عرصے سے چلی آ رہی کشیدگی کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ متاثرہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی زندگیوں میں بھی سکون لوٹ آیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس تمام عمل کے دوران عوامی رابطے اور شفافیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 'سی ایم کنیکٹ' کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد شہریوں تک براہ راست رسائی حاصل کی تاکہ ان کے خدشات کو سنا جا سکے اور باہمی رضامندی سے حل تلاش کیا جا سکے۔ اس عوامی رابطے کی مہم نے زمینی سطح پر امن قائم کرنے اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کی تعریف مقامی سطح پر بھی کی جا رہی ہے۔
سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحالی کو اپنی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باقی ماندہ چھ متنازعہ علاقوں کے حل کے لیے بھی بات چیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ دونوں ریاستوں کی انتظامیہ باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، اس پیش رفت سے نہ صرف شمال مشرق کے خطے میں سیاسی استحکام آئے گا بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہوں گی جو طویل عرصے سے التوا کا شکار تھے۔