World
یوکرین: ریڈ کراس کا ڈرائیور فرنٹ لائن انخلا کے دوران جبری بھرتی
یوکرین میں حکام کی جانب سے فرنٹ لائن کے قریب سے خاندانوں کا انخلا کرنے والے ریڈ کراس کے ایک ڈرائیور کو زبردستی حراست میں لے کر فوج میں بھرتی کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد امدادی سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یوکرین کے تنازع کے دوران ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں فرنٹ لائن کے قریب سے خطرناک علاقے سے دو کمزور خاندانوں کو نکالنے والے یوکرین ریڈ کراس کے ایک ڈرائیور کو پولیس نے مبینہ طور پر حراست میں لے کر فوج میں جبری طور پر بھرتی کر لیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جب امدادی کارکن اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ڈرائیور کو اس وقت روکا گیا جب وہ انسانی ہمدردی کے تحت شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے میں مصروف تھا۔ اس طرح کے اقدامات سے فرنٹ لائن کے قریب امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے رضاکاروں اور عملے کے لیے کام کرنا انتہائی خطرناک اور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت ریڈ کراس اور دیگر امدادی اداروں کے کارکنان کو تنازعات کے دوران غیر جانبدار تصور کیا جاتا ہے اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس واقعے نے یوکرین میں جاری جبری بھرتیوں کے طریقوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جبکہ مقامی حکام کی طرف سے اس پر مزید ردعمل کا انتظار ہے۔