World
روس میں ڈرون انڈسٹری میں کرپشن اور گرفتاریوں کی لہر
روس میں ڈرون بنانے والی کمپنیوں کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں کو فراڈ کے الزامات کا سامنا ہے، جن میں سے ایک پر چینی ڈرونز کو روسی ساختہ ظاہر کرنے کا الزام ہے۔ ان ڈرونز کو صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے ملکی پیداوار کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
روس میں ڈرون انڈسٹری کے اندر مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن اور فراڈ کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد متعدد اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں نے ملک کے دفاعی اور صنعتی شعبے میں ہلچل مچا دی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب جنگی ضروریات کے تحت ڈرون ٹیکنالوجی کی پیداوار کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ مبینہ اسکینڈل میں شامل ایک سرکردہ ملزم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے درآمد شدہ چینی ڈرونز کو خریدا اور انہیں مقامی سطح پر تیار کردہ روسی ڈرونز کے طور پر آگے فروخت کیا۔ یہ صورتحال دفاعی پیداوار کے معیار اور شفافیت پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان دونوں کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ یا فراہم کردہ ڈرونز کو ماضی میں خود روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ان ڈرونز کو ملکی سطح پر تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی اور 'ہوم گراؤنڈ' کامیابی کی شاندار مثال کے طور پر دکھایا گیا تھا، جس سے حکومتی سطح پر ان کی پذیرائی بھی کی گئی تھی۔ اب جب کہ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ہو چکا ہے اور متعلقہ حکام نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، یہ معاملہ دفاعی خریداری اور ٹھیکوں میں شفافیت کے فقدان کو بے نقاب کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات کے دوران اس قسم کے مالی گھپلوں اور فراڈ سے نہ صرف ملکی سلامتی کے منصوبے متاثر ہوتے ہیں بلکہ اعلیٰ قیادت کے سامنے غلط رپورٹنگ کرنے کے سنگین نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے دائرے میں مزید افراد کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ اس بڑے فراڈ کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔