Business
بھارت میں جی سی سی سیکٹر کو ہنر کی قلت کا خطرہ، پی ڈبلیو سی رپورٹ
بھارت میں گلوبل کیپبلٹی سینٹرز (GCCs) کے لیے ہنر کی کمی ایک بڑا اسٹریٹجک خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بہت سے ادارے متبادلممالک کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کام کو بہتر طریقے سے چلایا جا سکے۔
نئی دہلی: بھارت کے گلوبل کیپبلٹی سینٹرز (GCCs) کو اس وقت ایک نئے اور سنگین چیلنج کا سامنا ہے جہاں ہنر مند افراد کی کمی اسٹریٹجک خطرے میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ پی ڈبلیو سی انڈیا اور فکی کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق، تقریباً گیارہ فیصد جی سی سی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے عالمی ہیڈ کوارٹرز متبادل اور مسابقتی جغرافیائی مقامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس صورتحال سے بھارت کی اس برتری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جو اسے دنیا بھر میں آؤٹ سورسنگ اور ٹیک ہب کے طور پر حاصل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ٹیلنٹ کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، تاہم جدید ترین اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس میں ماہرین کی طلب اور رسد کے درمیان ایک بڑا خلیج پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں اب دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت کو اس مسابقتی دوڑ میں سرفہرست رہنا ہے تو تعلیمی اداروں اور صنعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیم کے نظام میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں لانی ہوں گی تاکہ فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان عالمی معیار کے مطابق تیار ہوں۔ اس کے علاوہ، کارپوریٹ سیکٹر کو بھی اپنے ملازمین کی تربیت اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ اسٹریٹجک خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔