World
امریکہ میں جنگلی سوروں کی تاریخ اور فصلوں کو نقصان
امریکہ میں سولہویں صدی کے دوران ہسپانوی مہم جوؤں کی طرف سے خوراک کے لیے لائے جانے والے خنزیر وقت کے ساتھ جنگلی روپ اختیار کر گئے۔ آج یہ آوارہ اور جنگلی خنزیر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی کم از کم پینتیس ریاستوں میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سولہویں صدی کے دوران جب ہسپانوی مہم جو اور explorers نے امریکی سرزمین پر قدم رکھا تو وہ اپنے ساتھ مختلف اقسام کے جانور بھی لائے تھے جن کا بنیادی مقصد سفر کے دوران اور نئی جگہوں پر خوراک کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ ان جانوروں میں گھریلو سور بھی شامل تھے جنہیں باقاعدہ طور پر غذائی ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔ تاریخ دانوں کے مطابق، ان ابتدائی سالوں میں لائے جانے والے یہ جانور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دیکھ بھाल نہ ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر جنگلوں اور ویرانوں میں نکل گئے، جہاں انہوں نے آزادانہ ماحول میں تیزی سے افزائش نسل شروع کر دی۔
گزشتہ کئی صدیوں کے دوران ان جانوروں کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں یہ جنگلی خنزیر (feral swine) امریکہ کی کم از کم پینتیس ریاستوں کے مختلف حصوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ یہ جانور اب جنگلات سے نکل کر زرعی علاقوں اور فارمز کا رخ کرنے لگے ہیں، جہاں یہ کسانوں کے لیے ایک بڑا دردِ سر بن چکے ہیں۔ ان کی خوراک اور زمین کھودنے کی عادت نے ملکی زراعت اور ماحولیات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اور زراعت کا کہنا ہے کہ یہ جنگلی خنزیر فصلوں کو روند ڈالنے اور انہیں کھانے کے علاوہ زمین کو بری طرح کھود کر زرخیز مٹی اور پودوں کی جڑوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مقامی جنگلی حیات کے وسائل پر بھی قبضہ کر رہے ہیں جس سے قدرتی توازن بگڑ رہا ہے۔ امریکی حکام اور محکمہ جنگلات کی جانب سے ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو قابو کرنے کے لیے مختلف اقدامات اور حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زرعی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔