Technology
امریکہ کی چھ ٹریلین ڈالر تجارت اور مصنوعی ذہانت کے اخراجات
امریکہ میں کمپیوٹرز اور سرورز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کا دارومدار مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری پر ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل کی تجارتی ترقی کا انحصار براہ راست ٹیکنالوجی کے انفراسٹرکچر کی وسعت سے جڑا ہوا ہے۔
امریکہ میں معاشی ترقی اور چھ ٹریلین ڈالر کے تجارتی اہداف کا حصول اب براہ راست مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں ہونے والے مسلسل اور بھاری اخراجات پر منحصر ہو گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کمپیوٹر کے زمرے میں درآمدات جن میں ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور ملک بھر میں تیزی سے تعمیر ہونے والے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ناگزیر سرورز شامل ہیں، میں حیرت انگیز طور پر 91.72 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کس قدر وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف ہائی ٹیک صنعت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ مجموعی تجارتی حجم پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے لیے درکار ہارڈویئر اور مائیکرو چپس کی سپلائی چین عالمی معیشت میں ایک نیا محرک بن کر ابھری ہے، اور تجارتی حلقے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ رفتار طویل مدت تک برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔ دوسری جانب حکومت اور نجی شعبے کے مابین اشتراک کار سے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے منصوبے ریکارڈ رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا اس ضمن میں مانگ اور رسد کے توازن پر خصوصی توجہ دینے پر زور ہے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر درپیش چیلنجز کے باوجود ٹیکنالوجی اور اے آئی کے شعبے میں مالیاتی بہاؤ امریکہ کی مستقبل کی معاشی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔