World
یورپی یونین کے قوانین اور برطانوی زراعت پر اثرات
برطانوی زراعت پر یورپی یونین کے سخت اخراج کے قوانین کے منفی اثرات کا انکشاف کیا گیا ہے، کیونکہ بریگزٹ کے باوجود ان ضوابط کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غیر ضروری قوانین کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور اس صورتحال میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
برطانوی زراعت کو اس وقت ایک شدید بحران کا سامنا ہے کیونکہ یورپی یونین کے سخت نیگ زیرو ضوابط اور اخراج کے معیارات مقامی کسانوں کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سنہ 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد بھی برطانیہ میں ان یورپی قوانین کو من و عن نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے وہ مبینہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔ زرعی ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر روایتی موبائل مشینری اور دیگر زرعی آلات کے لیے طے کردہ یہ قوانین نہ صرف کسانوں کی مالی حالت کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ پیداواری لاگت میں بھی بے پناہ اضافہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر برطانیہ یورپی یونین کے دائرہ کار سے باہر نکل چکا ہے تو اسے اپنے آزاد اور عملی معیارات اپنانے چاہئیں جو کہ برطانوی معیشت اور زمینی حقائق کے زیادہ قریب ہوں۔ پرانے اور زیادہ لچکدار معیارات کی طرف واپسی سے کسانوں کو سستی اور قابلِ عمل مشینری دستیاب ہو سکتی ہے، جو کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کسانوں کو ایسے اصولوں کی پابندی کرنا پڑ رہی ہے جو یورپی منڈیوں کے لیے تو شاید موزوں ہوں لیکن برطانوی زرعی شعبے کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس تمام تنازع کے درمیان، حکومت اور پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ زرعی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں تاکہ برطانوی کسانوں کو اس غیر ضروری بوجھ سے نجات دلائی جا سکے اور ملکی زراعت کو مزید زوال سے بچایا جا سکے۔