LIVE
Loading Breaking News...

نوشکی میں شہید جلیل بادینی کے قاتلوں کے خلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ

News Image
نوشکی میں موٹر سائیکل چھیننے کے دوران قتل ہونے والے نوجوان کرکٹ کھلاڑی شہید جلیل احمد بادینی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین اور سیاسی رہنماؤں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے۔
نوشکی میں موٹر سائیکل چھیننے کے دوران قتل ہونے والے نوجوان کرکٹ کھلاڑی شہید جلیل احمد بادینی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف نوشکی میں ایک پرزور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس احتجاج میں شہریوں، بڑی تعداد میں کھلاڑیوں اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاجی ریلی شہر کی مختلف اہم شاہراہوں سے گشت کرتی ہوئی پریس کلب نوشکی پہنچی، جہاں شرکاء نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے جلیل احمد بادینی کے قاتلوں اور ضلع بھر میں بڑھتی ہوئی موٹر سائیکل چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا پرزور مطالبہ کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور شہید جلیل احمد بادینی کی تصاویر بھی اٹھائی گئی تھیں جن پر انصاف کے مطالبات درج تھے۔ اس احتجاجی مظاہرے سے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی، عطاء اللہ مینگل، نیشنل پارٹی کے بیبرگ بلوچ، ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر شکیل احمد جمالدینی، حافظ الیاس اور ملک یاسین سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ نوشکی میں عام شہری خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور موٹر سائیکل، گاڑیوں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء چھیننے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور جرائم کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ مقررین نے یاد دلایا کہ جلیل احمد بادینی کو انتہائی بیددردی کے ساتھ موٹر سائیکل چھیننے کی واردات کے دوران قتل کیا گیا تھا، تاہم اتنے دن گزر جانے کے باوجود واقعے میں ملوث اصل ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ انہوں نے پولیس حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس اندوہناک واقعے کی تحقیقات کو فوری طور پر تیز کیا جائے، ملزمان کی نشاندہی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور عدالتی نظام کے تحت قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام اس ظلم پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ احتجاج کے اختتام پر تمام مقررین اور شرکاء نے حکومت اور اعلیٰ متعلقہ اداروں کو سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر شہید جلیل احمد بادینی کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا یہ سلسلہ مزید وسیع کیا جائے گا اور دھرنوں سمیت سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوشکی میں امن و امان کی ابتر صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے ہولناک واقعات سے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔