LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں گرمی کی لہر کے معاشی اثرات اور نقصانات

News Image
یورپ میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی وجہ سے سیاحت، بجلی کی پیداوار اور صنعتی پیداواری صلاحیت کو اربوں یورو کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین اور رپورٹس کے مطابق آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے یہ معاشی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
یورپ بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر اور طویل خشک سالی نے نہ صرف قدرتی مناظر اور ماحول کو جھلس کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے سنگین معاشی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ یورپی ممالک میں سیاحت، بجلی کی پیداوار اور صنعتی پیداواری صلاحیت کو اس شدید موسم کی وجہ سے براہ راست نقصان کا سامنا ہے۔ خلا سے لیے گئے مناظر میں یورپ کے جھلسے ہوئے خطے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔ کوپرنیکس کے مطابق جولائی میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے پورے خطے میں موسمیاتی ہنگامی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال کے سب سے زیادہ منفی اثرات سیاحت کے شعبے پر مرتب ہوئے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث روایتی سیاحتی مقامات پر مسافروں کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ لوگ شدید درجہ حرارت اور جنگلات میں لگنے والی آگ کے خطرے کے پیش نظر اپنے سفر منسوخ کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف، بجلی کی پیداوار کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح گرنے اور زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے تھرمل اور ہائیڈرو پاور پلانٹس کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، جس سے توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ کاروباروں اور بیمہ کے شعبے کو بھی اس ضمن میں ایک بڑے فرق کا سامنا ہے کیونکہ کاروباری نقصانات کے دعوے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اگر موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید گرمی کے اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو سال 2026 تک یورپی یونین کو اربوں یورو کا مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ مغربی یورپ کے متعدد ممالک میں رواں سال جون اور جولائی کے مہینے تاریخ کے گرم ترین مہینے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے سالوں میں معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے، ورنہ پیداواری صلاحیت میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات پورے خطے کے مالیاتی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔