LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا سابقہ اہلیہ کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل پر فیصلہ

News Image
سپریم کورٹ نے سابقہ اہلیہ کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ خواتین کو قانونی حقوق استعمال کرنے پر تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابقہ اہلیہ کو قتل کرنے والے مجرم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قانون کے مطابق اپنے حقوق حاصل کرنے والی خواتین کے خلاف تشدد کو کبھی بھی بلا سزا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے اپنی سابقہ بیوی کو محض اس بنیاد پر قتل کیا تھا کہ اس نے عدالت سے خلع کا قانونی حق استعمال کیا تھا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ خلع عورت کا ایک بنیادی آئینی اور شرعی حق ہے، جسے استعمال کرنے پر کسی بھی خاتون کو دھمکیاں دینا یا اس کی جان لینا سنگین ترین جرم ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ معاشرے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ریاست اور عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے، اور گھریلو ناچاقی یا طلاق کے تنازعات کے بعد خواتین کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ اس فیصلے کو ملک بھر میں قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سراہا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت فیصلوں سے معاشرے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے لیے ایک واضح پیغام جائے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد مجرم کی سزا حتمی ہو گئی ہے اور اب اس پر قانون کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔