Business
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، پی ایچ ایم اے کی فوری خاتمے کی اپیل
پاکستان ہosiery مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹرز سے ہڑتال فوری ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آج متوقع ہے تاکہ بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان ہosiery مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے ملک بھر میں جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور برآمدی شعبے کو ناقابل تلافی مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بندرگاہوں پر کارگو کا دباؤ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی تجارت کو خطرات لاحق ہیں۔دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ٹرانسپورٹ ہڑتال طویل ہوئی تو ملک کے اقتصادی بحران میں مزید گہرائی آئے گی۔ تجارتی تنظیموں کا ماننا ہے کہ سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا اور عام مارکیٹ میں بھی اشیائے ضروری کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومتی ایوانوں میں اس صورتحال کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور بندرگاہوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دریں اثنا، حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان اہم مذاکرات آج متوقع ہیں جن میں تمام متنازع امور کا پرامن حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، منی مزدا ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دیگر ٹرانسپورٹ یونینز کے ساتھ معاملات طے پانے کی امید بھی روشن ہو گئی ہے۔ کاروباری برادری نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کریں اور ملکی معیشت کے وسیع تر مفاد میں فوری طور پر کسی مثبت نتیجے پر پہنچیں۔