LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں مکمل جنگ کا خطرہ، اقوام متحدہ کی تشویش

News Image
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک بار پھر همہ گیر جنگ شروع ہونے کا سب سے بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یمنی عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے کیونکہ ملک میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یمن کے عوام ایک بار پھر همہ گیر اور شدید جنگ کے خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں، کیونکہ حالیہ مہینوں میں ملک کے اندر جاری کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے سکیورٹی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن کو اس وقت 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے جنگ کی طرف واپسی کے سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے اس صورتحال پر شدید پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ کسی بھی نئی جنگ کے نتیجے میں یمن کے پہلے سے تباہ حال عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے سکیورٹی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عام شہری اس وقت انتہائی خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے ہیں اور ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا ملک ایک بار پھر خونریز جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں اور مالی تعاون کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے یمنی ریاستی اداروں کو ملنے والی حمایت اس بحران میں ایک اہم لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے ذریعے سرکاری نظام کو کسی حد تک چلایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، عالمی طاقتوں کے درمیان بھی یمن کی صورتحال پر لفظی جنگ جاری ہے۔ روس نے یمن کے خلاف عائد ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ علاقائی کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام تر پابندیوں کا خاتمے اور غیر ملکی مداخلت کا رکنا ناگزیر ہے۔ یمنی عوام جو پہلے ہی برسوں کی خانہ جنگی، قحط اور صحت کی سہولیات کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں، اب ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کیے تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی اور ایک نیا انسانی المیہ جنم لے گا جو پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔