LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی سنگولیرٹی اور سیم ألٹمین کا دعویٰ

News Image
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم ألٹمین کا دعویٰ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سنگولیرٹی اب حقیقت بن چکی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات اور سکیورٹی نقائص اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔
مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم ألٹمین نے ایک بار پھر دنیا کو چونکا دیا ہے۔ سیم ألٹمین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک ایسا سنگ میل جسے سنگولیرٹی کہا جاتا ہے، اب پہنچ چکا ہے اور یہ ٹیکنالوجی انسانی فہم سے آگے نکلنے لگی ہے۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایسی مصنوعی ذہانت کی تیاری میں مصروف ہیں جو انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دے۔ ان کے اس تازہ ترین بیان کے بعد تکنیکی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جہاں اس دعوے کے حق اور مخالفت میں دلائل دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے کئی ماہرین سیم ألٹمین کے اس دعوے سے متفق نظر نہیں آتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے سکیورٹی کے مسائل، جن میں ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم پر ڈیٹا کا نقض بھی شامل ہے، اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہیں کہ سنگولیرٹی آ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ اے آئی سسٹمز میں اب بھی کئی بنیادی خامیاں پائی جاتی ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں انسانی ذہانت کا مکمل متبادل یا برتر شکل اختیار کرنے سے ابھی کوسوں دور ہیں۔ اس تنازع کے بعد دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت کی موجودہ ترقی کو واقعی سنگولیرٹی قرار دیا جا سکتا ہے یا یہ محض ایک مارکیٹنگ کی چال ہے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید مباحثہ متوقع ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر نئے ماڈلز متعارف کرا رہی ہیں اور عوامی سطح پر اس کے اثرات واضح ہوتے جا رہے ہیں۔