LIVE
Loading Breaking News...

گوجرانوالہ ہسپتال ادویات چوری کیس، افسران معطل

News Image
گوجرانوالہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں ادویات کی چوری کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے جس کے بعد متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غفلت برتنے والے افسران کو معطل کر دیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف محکمہ صحت نے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
گوجرانوالہ کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں ادویات کی چوری کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے حکام نے سخت تادیبی کارروائی کی ہے۔ ہسپتال کے اندر سے قیمتی اور زندگی بچانے والی ادویات کے غائب ہونے کی اطلاعات پر اعلیٰ حکام نے تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں غفلت کے مرتکب اور مبینہ طور پر چوری میں ملوث افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہسپتال کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے جہاں غریب اور نادار مریضوں کے لیے آنے والی مفت ادویات مبینہ طور پر نجی میڈیکل سٹورز یا باہر کے بازاروں میں فروخت کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، محکمہ صحت کی جانب سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک خصوصی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ ہسپتال کے سٹورز سے ادویات کس کی ملی بھگت سے چوری ہوئیں اور اس میں کون کون سے بااثر عناصر ملوث ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ اس گھنائونے جرم میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ حکومت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری اور بدعنوانی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور مریضوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب، عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف فوری طور پر معطل کیے جانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بلکہ پورے ہسپتال کے ادویاتی ریکارڈ کا آڈٹ کیا جائے تاکہ ماضی میں ہونے والی چوریوں کا بھی پتہ چل سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی ادویات کی قلت کا سامنا رہتا ہے اور اگر جو ادویات مہیا کی جاتی ہیں وہ بھی چوری ہو جائیں تو غریب مریضوں کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل انوینٹری سسٹم کے ذریعے ادویات کے ریکارڈ کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔