Technology
ای وائی کا اے آئی اخراجات کی جانچ کے لیے ویلیو ریلائزیشن آفس کا قیام
آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر اٹھنے والے اخراجات کو بہتر طریقے سے منظم کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ای وائی نے ایک نیا شعبہ قائم کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ سطح پر اے آئی کے منصوبوں کی نگرانی کرنا اور اس کی سرمایہ کاری کے نتائج کا جائزہ لینا ہے۔
عالمی سطح پر معروف پروفیشنل سروسز فرم 'ای وائی' (EY) نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر کی جانے والی سرمایہ کاری کے بھرپور اور مؤثر نتائج کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا 'ویلیو ریلائزیشن' آفس قائم کر دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کمپنیاں اے آئی پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہیں، لیکن یہ دیکھنا اہم ہو گیا ہے کہ اس سرمایہ کاری کا اصل دنیا میں کیا فائدہ ہو رہا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد تمام اے آئی منصوبوں کی مرکزیت اور گورننس کو بہتر بنانا ہے تاکہ اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے اور مطلوبہ منافع حاصل کیا جا سکے۔
اس نئے شعبے کے قیام سے کمپنی کے اندرونی اور بیرونی دونوں شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا۔ ای وائی کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محض اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنانا کافی نہیں ہے، بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کاروبار کے لیے حقیقی قدر پیدا کرے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں اے آئی کے بے دریغ استعمال کے بعد اب کمپنیاں اس کے مالیاتی اور عملی اثرات کا حساب کتاب چاہتی ہیں، جس کے لیے اس طرح کے خصوصی دفاتر ناگزیر ہو چکے ہیں۔
نئے آفس کے تحت تمام اے آئی پروجیکٹس کی کارکردگی کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون سا پروجیکٹ کتنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے گا بلکہ یہ بھی طے کیا جائے گا کہ مستقبل میں مزید فنڈز کہاں اور کیسے لگائے جانے چاہئیں۔ ای وائی کی یہ حکمت عملی دیگر بڑی کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے جو اپنے اے آئی اخراجات پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں۔