World
جسٹس سوریا کانت کا بیان: نئی نسل کو انصاف کے ادارے آگے بڑھانے ہوں گے
ہندوستانی چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا ہے کہ ملک نے گزشتہ آٹھ دہائیوں میں کئی اہم چیلنجز پر قابو پایا ہے۔ انہوں نے نوجوان قانون کے فارغ التحصیل طلباء اور وکلاء پر زور دیا کہ وہ مستقبل کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار رہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے اتوار کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملک نے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران متعدد سنگین اور پیچیدہ چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، تاہم عدالتی اور سماجی شعبے میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ نظامِ عدل کو مزید فعال اور عوام دوست بنایا جائے۔
نوجوان وکلاء اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے تازه فارغ التحصیل طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ آنے والے وقت میں ملک کے انصاف کے اداروں کو آگے بڑھانے کی تمام تر ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نوجوان نسل کو نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہوگا بلکہ آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے بھی پوری تندہی سے کام کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی کا عمل ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلیوں اور تکنیکی ترقی کو بھی ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوان قانونی ماہرین کو نصیحت کی کہ وہ خدمت کے جذبے کو اپنا شعار بنائیں اور معاشرے کے پس ماندہ طبقات تک انصاف کی فوری رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔
موجودہ ملکی اور عالمی تناظر میں عدلیہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عدالتیں جمہوریت کا بنیادی ستون ہیں اور ان کا تقدس برقرار رکھنا ہر شہری اور بالخصوص قانونی برادری کی اولین ذمہ داری ہے۔ تقریب کے آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی نسل ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے گی اور قانون کے شعبے میں نئے سنگ میل عبور کرے گی۔