AI
علی بابا کے کیو وین اے آئی ماڈلز کے 3 ارب ڈاؤن لوڈز مکمل
چینی ٹیکنالوجی جائنٹ علی بابا کے اوپن ویٹ کیو وین آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈلز نے محض چھ ماہ کے اندر تین ارب ڈاؤن لوڈز کا اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ساتھ کیو وین نے عالمی سطح پر میٹا اور گوگل جیسے بڑے اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی کی دنیا میں چین کی برتری ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے کیونکہ معروف چینی ادارے علی بابا کے تیار کردہ اوپن ویٹ 'کیو وین' (Qwen) آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈلز نے ڈاؤن لوڈز کے لحاظ سے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ کمپنی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ان ماڈلز نے محض چھ ماہ کے مختصر ترین عرصے میں تین ارب سے زائد ڈاؤن لوڈز کا ہندسہ عبور کر لیا ہے، جو کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی علی بابا کے اے آئی ماڈلز نے ٹیکنالوجی کی دنیا کے مقتدر ناموں جیسے کہ میٹا اور گوگل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر چینی مصنوعی ذہانت کی مقبولیت اور پذیرائی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
علی بابا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس وقت اس ایکو سسٹم کے تحت 460 سے زائد بنیادی ماڈلز اور تقریباً 3 لاکھ سے زیادہ اس سے مشتق (derivative) ماڈلز مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ یہ وسیع اقسام مختلف نوعیت کے صارفین کو جدید ترین سہولیات فراہم کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ڈویلپرز اور محققین کی بڑی تعداد ان ماڈلز کو ترجیح دے رہی ہے۔ اوپن ویٹ ماڈلز کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین ان میں اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کر سکتے ہیں، اور اسی لچک کی وجہ سے کیو وین نے اتنی کم مدت میں عالمی سطح پر اپنی ایک الگ اور مضبوط پہچان بنا لی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مغربی ممالک کی روایتی اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے چینی کمپنیاں اب کم لاگت اور زیادہ کارآمد اوپن سورس ماڈلز پیش کر رہی ہیں جو دنیا بھر کے ڈویلپرز میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ علی بابا کا کیو وین اس رجحان کا سب سے بڑا مظہر بن کر ابھرا ہے، جو نہ صرف چینی مارکیٹ بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی دھاک بٹھا رہا ہے۔
اس کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ علی بابا مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تحقیق اور ترقی پر مزید بھاری سرمایہ کاری کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس پلیٹ فارم سے مزید جدید ماڈلز متوقع ہیں جو مختلف صنعتی شعبوں میں کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں گے۔ گلوبل ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اس تبدیلی کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے جب دیگر عالمی ادارے اس مسابقت میں اپنی نئی حکمت عملیوں کے ساتھ سامنے آئیں گے۔