LIVE
Loading Breaking News...

کارپوریٹ انڈیا کے چیلنجز اور روایتی سوچ کی تبدیلی پر بحث

News Image
آزاد ڈائریکٹر رچا اروڑہ نے کارپوریٹ گورننس کے پرانے نظام اور فرسودہ طریقوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری دنیا کو تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔
کارپوریٹ انڈیا میں اس وقت ایک اہم بحث چھڑ گئی ہے جب آزاد ڈائریکٹر رچا اروڑہ نے اپنے ایک لنکڈ ان پوسٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کارپوریٹ گورننس تیزی سے بدلتی ہوئی کاروباری دنیا اور رسک کے تناظر میں پیچھے رہ گئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں پرانے فریم ورک اور فرسودہ نظریات کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ بورڈ رومز میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا اور ایسے فرضی تصورات پر نظرثانی کرنا ہوگی جو اب موجودہ مارکیٹ کی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتے۔ رچا اروڑہ کے مطابق، کاروباری دنیا میں رسک کی نوعیت اب یکسر بدل چکی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن، سائبر سکیورٹی، گلوبل اکنامک شفٹس اور مارکیٹ کے غیر متوقع اتار چڑھاؤ نے پرانے رسک مینجمنٹ ماڈلز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ روایتی کارپوریٹ ادارے اکثر ایسے اصولوں پر انحصار کرتے ہیں جو گزشتہ دہائیوں میں کارآمد تھے، لیکن آج کے تیز رفتار دور میں وہ محض ایک بوجھ بن چکے ہیں۔ کمپنیاں جب تک پرانے فریم ورکس کو خیرباد نہیں کہتیں، تب تک وہ مارکیٹ میں پائیدار ترقی اور مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ مول لیتی رہتی ہیں۔ اس بحث کے بعد سے کاروباری ماہرین اور کارپوریٹ لیڈرز کے درمیان اس امر پر شدید غوروخوض شروع ہو گیا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈز میں ایسے افراد کی شمولیت ضروری ہے جو جدید ترین رجحانات سے آگاہ ہوں اور روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا موجودہ تعمیل کے طریقے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں یا ان میں حقیقی معنوں میں بدلتے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ مباحثہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اگر کمپنیاں کل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ماضی کے خیالات پر ہی بھروسہ کرتی رہیں تو وہ نہ صرف مارکیٹ شیئر کھو بیٹھیں گی بلکہ طویل مدتی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ کارپوریٹ گورننس کے ماہرین نے اس بات کی وکالت کی ہے کہ بورڈز کو زیادہ لچکدار، فعال اور جدید مارکیٹ ڈائنامکس سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی بحران کا فوری اور موثر جواب دے سکیں۔