Politics
ٹرمپ کی غیر ملکی ووٹرز کے خلاف قانونی مہم کی ناکامی
امریکی صدارتی انتخابات کے دوران غیر ملکی ووٹرز کے خلاف قانونی کارروائی کی وفاقی کوششوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ واشنگٹن کی طرف سے ملنے والی ہدایات کے باوجود یہ کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
مارچ کے اواخر میں مینیسوٹا کے امریکی اٹارنی آفس کے اعلیٰ عہدیدار جو ٹیراب کو واشنگٹن سے ایک انتہائی اہم اور فوری ای میل موصول ہوئی۔ اس وقت وفاقی حکومت اس بات کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی تھی کہ ایسے مجرمانہ مقدمات تلاش کیے جائیں جن کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے عمل کو چیلنج کیا جا سکے اور اس حوالے سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو روکنا اور غیر ملکیوں کی رائے دہی کے خلاف عملی قدم اٹھانا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اور قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ کوششیں شروع میں ہی شدید دباؤ کا شکار ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر اس نوعیت کے مقدمات کی تلاش کے لیے جو احکامات جاری کیے گئے تھے، ان پر عمل درآمد کرنا مقامی سطح پر انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ قانونی ماہرین اور استغاثہ کو ایسے واضح شواہد حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا جو عدالت میں ٹک سکتے۔ اس کے علاوہ ریاستی اور وفاقی قوانین کے درمیان تضادات اور پیچیدگیوں نے بھی اس پوری کوشش کو سست کر دیا۔ جب اس حوالے سے مزید تحقیقات کی گئیں تو یہ بات سامنے آئی کہ غیر ملکی شہریوں کے ووٹ دینے کے واقعات اتنے بڑے پیمانے پر نہیں تھے جتنا کہ واشنگٹن کے حلقوں میں اندازہ لگایا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے اس مہم کا بنیادی جواز ہی کمزور پڑ گیا۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یہ کوششیں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوتی چلی گئیں اور اندرونی سطح پر بھی اس حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات چلانے کے لیے نہ صرف مضبوط شواہد کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ایک طویل قانونی عمل سے بھی گزرنا پڑتا ہے، جو انتخابی شیڈول کے دوران ممکن نہیں ہو سکا۔ بالآخر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی یہ بے مثال کوششیں بغیر کسی بڑے قانونی نتیجے کے دم توڑ گئیں اور اس حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات محض ایک سیاسی بیان بازی تک محدود ہو کر رہ گئے۔