Pakistan
پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور حکومت سے مذاکرات
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث ملکی بندرگاہوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے درمیان اختلافات کی وجہ سے کنٹینرز تاحال سڑکوں سے غائب ہیں۔
ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور کنٹینرز سڑکوں سے غائب رہنے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹرز کے اندرونی اختلافات اور تقسیم کے باعث ہڑتال کا معاملہ فوری طور پر حل نہیں ہو سکا ہے، جس کے نتیجے میں بندرگاہوں پر مال برداری کا عمل بری طرح رک گیا ہے۔ اس صورتحال نے کاروباری برقی اور صنعتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ فوری طور پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کراچی میں حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان آج اہم مذاکرات متوقع ہیں جن میں تمام متنازعہ امور پر بات چیت کی جائے گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد کسی قابل قبول حل پر پہنچا جائے تاکہ تجارتی گاڑیوں کی رو رواں بحالی ممکن ہو سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان ہosiery مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PHMA) نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پی ایچ ایم اے کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ہڑتالوں سے برآمدات شدید متاثر ہوتی ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں بروقت ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
تجارتی اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آج ہونے والے مذاکرات میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو درآمدی اور برآمدی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے مابین اس بات چیت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق ملک کی معاشی اور تجارتی رگوں سے ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ باہمی افہام و تفہیم سے اس بحران کا پرامن حل نکال لیا جائے گا۔