World
شاہی جائیدادوں کی توانائی کی بہتری پر ایک کروڑ پاؤنڈ کا خرچ
برطانوی بادشاہ چارلس اور شہزادہ ولیم کو اپنی شاہی جائیدادوں میں توانائی کے قانونی معیارات کو پورا کرنے کے لیے ایک کروڑ پاؤنڈ کے اخراجات کا سامنا ہے۔ کئی شاہی جائیدادیں کرائے پر دی گئی ہیں جو توانائی کی کارکردگی کے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتی ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان کے سربراہ کنگ چارلس اور ولی عہد شہزادہ ولیم کو اپنی جائیدادوں کی توانائی کی بہتری کے لیے قریباً ایک کروڑ پاؤنڈ کے بھاری بل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گارڈین اور دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق شاہی خاندان کی کئی ایسی جائیدادیں جو عام شہریوں کو کرائے پر دی گئی ہیں، وہ قانونی طور پر نافذ توانائی کی کارکردگی کے معیارات پر پورا نہیں اترتی ہیں۔ ان عمارتوں کو بہتر بنانے کے لیے اب حکومتی قوانین کے تحت کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ توانائی کے ضیاع کو روکا جا سکے اور رہائشیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے عمارتوں کے لیے توانائی کی کارکردگی کے سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں جن کے تحت تمام کرائے کے مکانات کا ایک مخصوص ای پی سی یعنی انرجی پرفارمنس سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے۔ شاہی استحقاق کے حامل بعض پرانے محلات اور رہائشی یونٹس میں حرارتی نظام یعنی ہیٹنگ سسٹمز اور موصلیت کا معیار موجودہ جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ اس صورتحال میں شاہی خاندان کو بھی عام شہریوں کی طرح قانونی پابندیوں کا سامنا ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے اور کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔
اس متوقع ایک کروڑ پاؤنڈ کے اخراجات سے شاہی مالیات پر دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم ذمہ دار حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح ان تاریخی اور روایتی عمارتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگرچہ شاہی جائیدادوں کے پاس فنڈز موجود ہوتے ہیں لیکن اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تزئین و آرائش اور توانائی کی بچت کے منصوبوں کو مکمل کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ برطانوی عوام اور ماحولیاتی تنظیمیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا شاہی خاندان ان قوانین پر پورا اترنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔