World
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے: جنگ بندی کے باوجود تشدد میں اضافہ اور جاں بحق افراد
امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی میں توسیع کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران محض ایک ہی دن میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی میں توسیع کے باوجود خطے میں کشمکش تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ان فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں صرف ایک ہی دن کے اندر کم از کم 11 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر شدید خدشات کو جنم دیا ہے کیونکہ یہ حالیہ پرامن کوششوں اور جنگ بندی کے سمجھوتوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔ مقامی حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملوں کی شدت میں اچانک اضافے کی وجہ سے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کشیدگی میں اضافے کے بعد فریقین کے درمیان امن قائم رکھنے کی کوششوں کو شدید دھکا لگا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی طاقتیں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود ہونے والے ان خونریز حملوں نے ایک بار پھر خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی سرانجام دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بمباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
دوسری جانب، لبنانی حکومت اور عسکری ذرائع نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مقصد خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو خطے میں ایک نیا انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔