World
غزہ میں بغیر اینستھیزیا بچی کی سرجری، دل دہلا دینے والا انکشاف
غزہ میں جاری محاصرے اور طبی سامان کی شدید قلت کے دوران ایک ڈاکٹر نے بغیر اینستھیزیا کے معصوم بچی کی ٹانگ کاٹنے کا خوفناک تجربہ شیئر کیا ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ آپریشن کے دوران دعا کر رہے تھے کہ بچی درد سے بے ہوش ہو جائے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں انسانی المیہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے جہاں طبی سامان، ادویات اور اینستھیزیا کی مکمل عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹرز انتہائی کٹھن حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے ایسا ہولناک واقعہ بیان کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں ایک معصوم بچی کی جان بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹنے کا انتہائی مشکل فیصلہ کرنا پڑا، لیکن اسپتال میں درد کش ادویات اور اینستھیزیا کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں تھا۔
ڈاکٹر نے انتہائی افسردہ لہجے میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی طبی ٹیم اس دوران مسلسل یہ دعا کر رہے تھے کہ بچی درد کی شدت سے خود بخود بے ہوش ہو جائے۔ آپریشن تھیٹر میں موجود طبی عملے کے پاس جدید سہولیات تو کیا، بنیادی مرہم پٹی کا سامان بھی ناپید ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے انہیں انتہائی ابتدائی اور تکلیف دہ طریقوں سے سرجری انجام دینا پڑی۔ معصوم بچی پر گزرنے والی اس قیامت نے غزہ کے صحت کے نظام کی مکمل تباہی کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں روزانہ سینکڑوں زخمیوں کو بغیر علاج کے تڑپنا پڑ رہا ہے۔
عالمی سطح پر طبی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا اس بات کا انتباہ کیا ہے کہ غزہ میں ادویات اور اینستھیزیا کی بندش کی وجہ سے ڈاکٹرز کو انتہائی غیر انسانی حالات میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ مریضوں بالخصوص معصوم بچوں کے آپریشنز بغیر بے ہوشی کے کیے جا رہے ہیں جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ مقامی طبی عملے نے بین برادری سے فوری طور پر طبی امداد، سرجیکل کٹس اور اینستھیزیا کی فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو اس لرزہ خیز اذیت سے بچایا جا سکے، بصورت دیگر غزہ کے اسپتال مکمل طور پر قبرستان بن جائیں گے۔