LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش کا بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ اور دورہ منسوخ

News Image
بنگلہ دیشی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ملک واپس نہیں لایا جاتا، اس وقت تک موجودہ وزیراعظم بھارت کا کوئی دورہ نہیں کریں گے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں اس وقت سفارتی تناؤ پایا جا رہا ہے۔
ढाکا: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور سیاسی حلقوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ اس وقت تک بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے سفارتی دورے ممکن نہیں ہیں جب تک سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ حکومت کا یہ مؤقف دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے۔ شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے اور ان کے ملک سے فرار کے بعد سے ہی ڈھاکا اور نئی دہلی کے مابین سفارتی سطح پر سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق بنگلہ دیشی عوام اور نئی انتظامیہ کی جانب سے یہ دباؤ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم کے ذمہ داران کو پاکستان یا بھارت جیسی پناہ گاہوں سے نکال کر واپس لایا جائے۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان اندرونی سطح پر رابطے بھی جاری ہیں، تاہم کسی بھی مثبت پیشرفت کا انحصار حسینہ واجد کی حوالگی پر ٹکا ہوا ہے۔ بنگلہ دیشی ترجمان کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعاون اور خوشگوار تعلقات کا دارمدار باہمی احترام اور قانون کی بالادستی پر ہے، اور جب تک یہ بنیادی مطالبات پورے نہیں ہوتے، اعلیٰ سطحی سفارتی دوروں کو معطل رکھا جائے گا۔ اس صورتحال نے جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے جہاں بھارت کے لیے اپنے روایتی حلیف بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو بحال رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی وفود کی ملاقاتیں اس معاملے کا حتمی لائحہ عمل طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔