Business
نیتی آیوگ کی پروفیشنل سروسز قوانین میں اصلاحات کی تجاویز
بھارت کے تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے قانون، اکاؤنٹنگ، اور ہیلتھ کیئر سمیت پروفیشنل سروسز کے ریگولیٹری فریم ورک میں اہم اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ یہ تجاویز لائسنسنگ، بین الصوبائی نقل و حرکت اور غیر ملکی قابلیت کی منظوری پر مرکوز ہیں۔
بھارت کے معروف پالیسی تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے ملک میں پروفیشنل سروسز کے ریگولیٹری فریم ورک میں وسیع تر تبدیلیوں کی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان سفارشات کا بنیادی مقصد قانونی، اکاؤنٹنگ، آرکیٹیکچر، انجینئرنگ اور ہیلتھ کیئر جیسے اہم شعبوں کو مزید معاصر اور سہل بنانا ہے۔ اس اقدام سے پیشہ ور افراد کے لیے ملکی سطح پر کام کرنے کے مواقع بڑھیں گے اور ضابطہ کار کی رکاوٹیں کم ہوں گی۔
تجاویز کے مطابق، لائسنسنگ کے نظام کو زیادہ شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الصوبائی نقل و حرکت (interstate mobility) کو آسان بنایا جائے گا تاکہ پروفیشنلز بغیر کسی پیچیدہ بیوروکریٹک طریقہ کار کے مختلف ریاستوں میں اپنی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ہنر مند افراد کی مانگ اور رسد کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی قابلیت (foreign qualifications) کی باضابطہ شناخت اور رسائی کے امور پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ عالمی معیار کے پروفیشنلز کو ملکی مارکیٹ میں لانے اور ملکی ہنر مندوں کو بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنے کے لیے پالیسی سازوں نے ان تجاویز کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اصلاحات سے خدمات کے شعبے میں مسابقت بڑھے گی اور مجموعی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔