Technology
چین میں قدرتی آفات اور جعلی AI ویڈیوز کا چیلنج
چین میں حالیہ قدرتی آفات کے دوران غلط معلومات اور جعلی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان جعلی مواد نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
بیجنگ: چین میں حالیہ قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کا ایک نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کا مواد نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا ہے بلکہ مصدقہ معلومات تک رسائی کو بھی مشکل بنا رہا ہے۔ قدرتی آفات کے مواقع پر افواہ سازی اور ڈیپ فیک ویڈیوز کا استعمال سکیورٹی اداروں اور حکومت کے لیے ایک بڑا درد سر بنتا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں حقائق کو چھپانے یا کم کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔ سنہ 2021 میں ہینن صوبے میں پیش آنے والے ایک واقعے میں مقامی حکام کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان پر 139 اموات کو چھپانے یا کم ظاہر کرنے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔ اس نوعیت کے واقعات پہلے ہی عوام اور حکام کے درمیان ایک اعتماد کا خلا پیدا کر چکے ہیں، اور اب اس خلا کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید چوڑا کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی جعلی ویڈیوز میں تباہی کے مناظر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے یا پھر ایسے واقعات دکھائے جاتے ہیں جو حقیقت میں رونما ہی نہیں ہوئے۔ حکومتی اداروں اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پروپیگنڈے اور غلط معلومات کا بروقت تدارک انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے سخت قوانین اور مانیٹرنگ سسٹمز کو بہتر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کے وقت درست اور بروقت معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں اور افواہوں کے بازار کو روکا جا سکے۔