LIVE
Loading Breaking News...

نوبل انعام یافتہ ڈیرن عجم اوغلو کا مصنوعی ذہانت اور جمہوریت پر تبصرہ

News Image
نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ڈیرن عجم اوغلو نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور لبرل جمہوریت دونوں کو ایک جیسے بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ دور میں ہر چیز کو حد سے زیادہ بڑھانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔
معروف ماہر معاشیات اور نوبل انعام یافتہ ڈیرن عجم اوغلو نے مصنوعی ذہانت (AI) کے موجودہ مباحث پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اور لبرل جمہوریت دونوں ایک ہی بنیادی بحران سے دوچار ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں ہر معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور اسے انتہا تک پہنچانے کا رجحان شدت اختیار کرتا جا रहा ہے۔ ڈیرن عجم اوغلو، جو کہ ایم آئی ٹی (MIT) میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اس بات پر متنبہ کرتے رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو مثبت سمت میں ڈھالنے کے لیے سنجیدہ اور اعتدال پسندانہ سوچ کی ضرورت ہے۔ ڈیرن عجم اوغلو نے اپنے حالیہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈ डाली کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اکثر اوقات خوف یا ضرورت سے زیادہ توقعات کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبرل جمہوریتیں بھی آج کل ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں جہاں معاشرتی تقسیم اور انتہا پسندی ہر مباحثے پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، جب تک اس رجحان کو روکا نہیں جاتا، ٹیکنالوجی اور جمہوری ادارے دونوں عوام کی بہتری کے بجائے مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتے رہیں گے۔ ماہرین کے نزدیک، ڈیرن عجم اوغلو کی یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ اور اس کے انسانی سوسائٹی پر پڑنے والے اثرات پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ایک طرف جہاں مصنوعی ذہانت کو معاشی ترقی اور پیداورای صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے روزگار، رازداری اور جمہوری عمل پر ممکنہ منفی اثرات کے خدشات بھی ظاہر کیے جا रहे ہیں۔ ڈیرن عجم اوغلو نے زور دیا ہے کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کو اندھا دھند اپنانے کے بجائے اس کے استعمال کے ضابطوں اور معاشرتی اثرات پر گہرائی سے غور کرنا ہوگا۔ آخر میں، انہوں نے عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ جمہوریت اور ٹیکنالوجی کے ان مشترکہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔ اگر درست سمت میں بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحانات نہ صرف جمہوری اقدار کو کمزور کریں گے بلکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کو بھی عامتک پہنچنے سے روک دیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر معاملے کو انتہا تک لے جانے کے بجائے اعتدال اور حقیقت پسندی کو اپنایا جائے تاکہ ایک پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔