LIVE
Loading Breaking News...

کاویری پانی تنازع: سلیم میں احتجاج سے پہلے کسان رہنما گرفتار

News Image
کاویری پانی کے تنازع پر سلیم جنکشن ریلوے اسٹیشن پر احتجاج کرنے والے کسان رہنما کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انتظامیہ کی جانب سے ریلوے اسٹیشن کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
تمل ناڈو میں کاویری پانی کے تنازع پر کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں، سلیم جنکشن ریلوے اسٹیشن پر مجوزہ احتجاج سے عین قبل ایک نمایاں کسان رہنما کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ریلوے کی روٹین سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے کے لیے یہ احتیاطی قدم اٹھایا گیا ہے۔ کسان تنظیمیں طویل عرصے سے کاویری کے پانی کے معاملے پر ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے فوری مداخلت اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حراست میں لیے جانے والے کسان رہنما کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ دوسری جانب کسان تنظیموں نے اپنے رہنما کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور اسے جمہوری حقوق سلب کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جائز مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کا آئینی حق رکھتے ہیں اور اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ واقعے کے بعد سلیم جنکشن اور اس کے گردونواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ کاویری آبی تنازع جنوبی ہند کی دو اہم ریاستوں تامل ناڈو اور کرناٹک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ دونوں ریاستوں کے کسان فصلوں کی آبپاشی کے لیے کاویری کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، اور بارشوں میں کمی یا قحط سالی کے دوران پانی کی تقسیم پر تنازعہ مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کسانوں کی جانب سے دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف مقامات پر مظاہرے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جبکہ انتظامیہ کسی بھی بڑی ٹریفک یا ریل روڈ رکاوٹ کو ناکام بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ سلیم میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور کسان رہنماؤں کی طرف سے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت کا دروازہ بند ہونا مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے فریقین کو افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔ پولیس اور انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ امن عامہ کی صورتحال قابو میں رہے اور مسافروں کو کسی قسم کی زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔