LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک شاک دستانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا استعمال

News Image
امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے الیکٹرک شاک دینے والے دستانوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس پر انسانی حقوق کے حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر مشتبہ افراد کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن اس کے اخلاقی پہلوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سال 2022 کے دوران، جنوب مشرقی مسوری کے کیپ جیرارڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ چیف ایڈم گلوک نے ایک ٹریڈ شو میں شرکت کے دوران الیکٹرک شاک دینے والے دستانوں کا مشاہدہ کیا اور اپنے افسران کے لیے انہیں خرید لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ماتحت عملے کو یہ نئی ٹیکنالوجی اتنی پسند آئی کہ وہ اس کے استعمال سے سیر ہی نہیں ہو پا رہے تھے۔ اس طرح کے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید اور بعض اوقات خطرناک نظر آنے والے آلات کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں شامل کر رہے ہیں۔ تاہم، اس قسم کے آلات کے استعمال پر سویلین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے الیکٹرک شاک دستانے جارج آویل کے ناولوں جیسی نگرانی اور جبر کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ریاست کی طاقت عام شہریوں پر بے دریغ استعمال ہوتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری اور فروخت کے پیچھے کام کرنے والی کمپنیوں کے مقاصد اور طریقہ کار پر بھی کڑی تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے مبتبہ افراد یا عام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پولیس حکام کا اس حوالے سے موقف ہے کہ اس طرح کے آلات خطرناک صورتحال میں پولیس اہلکاروں کی جان کی حفاظت اور مشتبہ افراد کو بغیر کسی شدید جانی نقصان کے قابو کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا دعویٰ روایتی ہتھیاروں کے مقابلے میں یہ کم نقصان دہ ہیں لیکن اس کے باوجود اس کے طویل مدتی اثرات اور اخلاقی جواز پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرینِ قانون اور ٹیکنالوجی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس قسم کے آلات کے استعمال کے لیے سخت ضابطے اور نگرانی کے نظام بنائے جائیں تاکہ ان کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔