World
بھارتی قومی پرچم کی ڈیزائنر ثریا طیب جی کی تاریخ
ثریا طیب جی کا تعلق حیدرآباد کے ایک بااثر خاندان سے تھا جنہوں نے بھارتی قومی پرچم کے ڈیزائن میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قومی پرچم پر کانگریس دور کے چرکھے کی جگہ چوبیس تیلیوں والے اشوکا چکر کو شامل کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔
بھارتی قومی پرچم کی تشکیل اور اس کے تاریخی سفر میں کئی شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں حیدرآباد کے بااثر طیب جی خاندان سے تعلق رکھنے والی نامور آرٹسٹ ثریا طیب جی کا نام بھی شامل ہے۔ تاریخی شواہد اور خاندانی ریکارڈ کے مطابق، ثریا طیب جی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے بھارتی ترنگے پر کانگریس دور کے چرکھے کی جگہ چوبیس تیلیوں والے اشوکا چکر کو روشناس کرایا اور اس کی عکاسی کی۔ یہ تبدیلی بھارتی قومی پرچم کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی جس نے ملکی شناخت کو ایک نیا رنگ دیا۔
ثریا طیب جی ایک باصلاحیت مصور اور ڈیزائنر تھیں جنہوں نے اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعے قومی علامتوں کی تشکیل میں حصہ ڈالا۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب بھارت کی آزادی کے بعد قومی پرچم کو حتمی شکل دی جا رہی تھی، تو پرچم کے درمیان موجود علامت پر طویل بحث ہوئی۔ ابتدائی طور پر مہاتما گاندھی سے جڑے ہوئے چرکھے کو پرچم کا حصہ بنانے پر غور کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کی جگہ اشوکا چکر کو ترجیح دی گئی۔ اس پورے عمل میں ثریا طیب جی کی فنی مہارت نے اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ تاریخ کے صفحات میں کئی بڑے سیاسی رہنماؤں کے نام اس عمل کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، لیکن محققین اور ان کے اہل خانہ کے مطابق ثریا طیب جی کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پرچم کے حتمی ڈیزائن اور اس کی تفصیلات کو ترتیب دینے میں گہری دلچسپی لی۔ ان کی محنت اور تخیل نے اس پرچم کو ایک ایسی شکل دی جو آج بھارت کی قومی وحدت اور خودمختاری کی علامت مانا جاتا ہے۔
آج جب بھی بھارتی قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، تو اس کی ہر ایک تفصیل کے پیچھے چھپی ہوئی تاریخ اور شخصیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ثریا طیب جی کا یہ کارنامہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ حیدرآباد کی ثقافتی اور تاریخی میراث کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ ان کی یہ فنی کاوش آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گی جنہوں نے ملکی پرچم کی ظاہری شکل کو ایک تاریخی اور متوازن شکل عطا کی۔