Politics
کاویری پانی تنازع اور کرناٹک حکومت پر بی جے پی کے الزامات
کرناٹک سے تمل ناڈو کے لیے کاویری کا پانی مبینہ طور پر رات گئے چھوڑے جانے پر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ بی جے پی کے اس دعوے کے بعد منڈیا کے کسانوں اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کا دیرینہ تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کرناٹک کی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ کرناٹک کی جانب سے تمل ناڈو کے لیے کے آر ایس (کرشنا راجا ساگر) ڈیم سے رات کے وقت چپکے سے پانی چھوڑا گیا ہے۔ اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس واقعے نے خاص طور پر منڈیا کے خطے کے کسانوں اور مختلف سیاسی گروہوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی پانی کی قلت اور اپنے فصلوں کے تحفظ کے لیے پریشان ہیں۔ مقامی کسانوں کا ماننا ہے کہ اگر اسی طرح پانی چھوڑا گیا تو ریاست کے اپنے کسانوں کو شدید خشک سالی اور آبپاشی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ منڈیا اور اس کے گردونواح میں کسان تنظیموں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا عندیہ بھی دے دیا ہے، جس سے قانون و امن کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کرناٹک حکومت اور متعلقہ حکام کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی واضح اور تسلی بخش موقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں مسلسل حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاویری کا یہ مسئلہ ایک بار پھر جنوبی ہند کی سیاست میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید گرما گرم سیاسی بحث متوقع ہے۔